حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ و یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے’’سمتِ خدا‘‘ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا: فطری طور پر کوئی بھی ایسا موجود نہیں جس میں پیش رفت کی گنجائش نہ ہو۔ بعض مظاہر ممکن ہے عروج پر پہنچنے کے بعد زوال کی جانب گامزن ہوں لیکن انسانی زندگی کے بہت سے امور میں ہمیشہ ترقی، اصلاح اور بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حتیٰ کہ معماری، جو ایک مادی امر شمار ہوتی ہے لیکن چونکہ انسانی زندگی سے اس کا تعلق ہے اس لیے مسلسل ارتقا پذیر ہے؛ اس کی خامیوں میں کمی کے ساتھ ان کی اصلاح کی جاتی ہے چہ جائیکہ معنوی امور جن میں بنیادی طور پر رشد و کمال کی کہیں زیادہ گنجائش موجود ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین پناہیان نے دین میں اخلاص کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: معنوی امور میں رشد و ترقی کے درجات بہت وسیع ہیں؛ حتیٰ کہ اخلاص، جسے دین کی غایت قرار دیا گیا ہے، خود بھی مختلف درجات رکھتا ہے اور اس میں بھی ارتقا ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اربعین کے بارے میں ہمارا تصور یہ ہے کہ ہم نے ابھی اس تحریک کے آغاز کا تجربہ کیا ہے اور آج اس تحریک کی توسیع اور مضبوطی کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، درحقیقت اربعین کے قیام اور اسے ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش شمار ہوتے ہیں۔
حوزہ علمیہ و یونیورسٹی کے استاد نے اربعین واک میں نوجوانوں اور پہلی مرتبہ شرکت کرنے والوں کی موجودگی جیسے پروگراموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ پروگرام اسی ابتدائی تحریک کی مثالیں ہیں۔ اربعین کی اصل حقیقت نوجوانوں کواس کی گہری شناخت عطا کرنا ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مختلف نسلوں بالخصوص نوجوانوں کی اس راستے میں شرکت کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔
انہوں نے کہا: اربعین میں ہمارے معاشرے کے لیے ترقی اور توسیع کی صلاحیت موجود ہے، یہ ایک قطعی امر ہے اور ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم اربعین کی حقیقت تک مزید کس طرح پہنچ سکتے ہیں اور اسے بہتر انداز میں کس طرح جلوہ گر کر سکتے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین پناہیان نے کہا: اربعین کو ہماری ثقافتی، تربیتی اور دینی سرگرمیوں کی بنیادی حکمتِ عملی میں تبدیل ہونا چاہیے۔ کوئی ایسی مسجد نہیں ہونی چاہیے جس کے پاس اگلے سال اربعین کاروان شروع کرنے کا منصوبہ نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا: قرآنی پروگراموں، حفظِ قرآن کے مقابلوں اور ثقافتی و تربیتی سرگرمیوں میں بھی اربعین کو محور قرار دیا جا سکتا ہے اور ان سرگرمیوں کو اربعین سے جوڑنے کے لیے بہت سے آئیڈیاز موجود ہیں۔
حوزہ علمیہ و یونیورسٹی کے استاد نے مزید کہا: ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ اربعین دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ایک ضمنی موضوع نہیں بلکہ ایک بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا ہے۔









آپ کا تبصرہ